إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

سانحہ گل پلازہ شھدائے گل پلازہ سے متعلق چند شرعی احکام جان لینے چاہیے (1) اس اندوہناک سانحے میں جو بھائی بہن …

Tuesday, 27 January 2026 · 10:12 PM

سانحہ گل پلازہ
شھدائے گل پلازہ سے متعلق چند شرعی احکام جان لینے چاہیے (1) اس اندوہناک سانحے میں جو بھائی بہن فوت ہوگئے شرعاً وہ شہید کہلائے جائیں گے اور جس قدر تکلیف زیادہ پہنچی اسی کے بقدر اجرو ثواب بھی ان کا زیادہ ہوگا، شرعی طور پر وہ شہید ہیں اور شہید کادرجہ اسلام میں بہت ہی بلند اور قابل قدر و افتخار ہے۔دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سب شہداء کے درجات بھی بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین شہادت کا یہ اعزاز ورثاء اور پسماندگان کی ڈھارس اور تسلی کا بہت بڑا سامان ہے ۔

(2)شہدا کی نماز جنازہ غسل اور تجہیز و تکفین اور تدفین کے حوالے سے شرعی بات یہ ہے کہ جس میت کا نصف سے زیادہ دھر یا سر اور نصف دھر مل جائے تو اسے غسل بھی دیا جائے گا کفن بھی دیا جائے گا اور نماز جنازہ اور تدفین بھی کی جائے گی جیسے عام طور پر ہوتا ہے۔اور اگر نصف سے کم دھر ملے یا چند بکھرے اعضاء ملیں یا خاکستر پاؤڈر کی شکل میں باڈی ملے جیسے ہڈیاں وغیرہ تو اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا اس پر غسل
تجہیز و تکفین اور تدفین جیسے تمام احکام لاگو نہیں ہوں گے

(3)اس موقعے پر یہ کہنا کہ ان کی میت بھی نہیں ملی، نماز بھی نہیں ہوئی اور تدفین بھی نہیں ہوئی ،یہ کیا ہوا تو خوب سمجھ لیجیے کہ ان باتوں کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بیشک یہ سب تکلیف دہ چیزیں ہیں مگر جیسا کہ پہلے بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا مقام بہت اونچا اور بلند ہے کہ وہ آگ میں جل کر اور عمارت کے نیچے دب کر شہید ہوئے ہیں اورصحیح احادیث میں ان کو شہید قرار دیا گیا ہے لہذا تسلی رکھیں اور زیادہ سے زیادہ ان کو ایصال ثواب وغیرہ کریں اس لیے کہ نماز جنازہ کا مقصد بھی دعا کرنا ہی ہوتا ہےجو ان شاءاللہ ان کے مزید درجات کی بلندی کا ذریعہ ہوگا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ ان کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین۔
(4) آخری بات یہ کہ وہ عورتیں جو اس سانحے میں بیوہ ہوگئیں ان کی عدت کب سے شروع ہوگی۔خوب سمجھ لیجیے کہ سانحے کے روز سے ہی ان کی عدت کا وقت شروع ہوچکا ہے،لہذا یہ جو بات معروف ہے کہ جب میت مل جائے اور نماز جنازہ ہو جائے اس کے بعد سے عدت کا وقت شروع ہوتا ہے سو یہ غلط ہے۔ اصل یہ کہ شوہر کی وفات ہوتے ہی عدت شروع ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح فہم و فراست عطا فرمائے آمین
مفتی عبد الماجد یوسف بھگت

Update: عوام کی کثیر تعداد ہونیکی بنیاد پر انکی نماز جنازہ ابھی 11.30 بجے دارالعلوم رحمانیہ میں ادا کی جائے گی

May Allah grant the marhoom/marhooma Jannat ul Firdaus and give the family sabr. Ameen.