سانحہ گل پلازہ
گل پلازہ میں ابھی تک بے شمار پیاروں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کئی افراد کی باقی ماندہ باقیات ان کے پسماندگان کے حوالے کردی گئی ہے اور کئی اب تک منتظر ہیں۔
اسی تناظر میں گزشتہ دنوں ایک مختصر تحریر میں شرعی احکام کو واضح طور پر بیان کردیا گیا تھا اب دوبارہ مسئلہ سمجھ لیجیے کہ ایسی سوختہ لاشیں جس میں صرف باقیات رہ جائے اور جسم کا نصف سے زائد دھر یا سر کے ساتھ نصف دھر نا ہو تو اصولی،شرعی اور فقہی حکم یہ ہے کہ ان باقیات کو نا غسل دیا جاتا ہے اور نا ہی ان پہ نماز جنازہ ہوتی ہے،بلکہ پاک کپڑے میں ان باقیات کو لپیٹ کر دفن کردیا جاتا ہے اور صرف دعا اور ایصال ثواب غیرہ کیا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں جو عارف لونی شہید (سانحہ گل پلازہ کا شہید)کی نماز جنازہ ہوئی وہ ایک اچانک صورت حال تھی جس میں افراتفری سے بچنے کے لیے نماز پڑھ لی گئی۔۔۔۔مگر آئندہ کے لیے اس بات کو جان لیجیے کہ شرعی اور فقہی آراء کے مطابق صرف باقیات پہ نماز جنازہ نہیں ہوتی۔۔ اور نماز نا ہونے سے خدانخواستہ یہ نا سمجھا جائے کہ یہ کیا ہوا تو خوب سمجھ لیجیے کہ یہی ان شہداء کا خدائی اعزاز ہے اور میدان جنگ کے شہید کو جس طرح غسل نا دینا ان کا اعزاز ہے اسی طرح ایسی سوختہ میتوں پہ نماز نا پڑھنے کے شرعی حکم کی تعمیل میں دراصل ان کا اعزاز واکرام ہے یہی شریعت کا حکم ہے۔جان لیجیے کہ آئندہ خدانخواستہ ایسی کوئی صورت (جس میں نصف سے کم دھر ہو یا باقیات ملے )پیش آئے تو نماز جنازہ نہیں ہوگی بلکہ تعزیتی اجتماع ،دعا اور ایصال ثواب وغیرہ پہ اکتفا کیا جائے گا۔
عبد الماجد یوسف بھگت
گل پلازہ میں ابھی تک بے شمار پیاروں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کئی افراد کی باقی ماندہ باقیات ان کے پسماندگان کے حوالے کردی گئی ہے اور کئی اب تک منتظر ہیں۔
اسی تناظر میں گزشتہ دنوں ایک مختصر تحریر میں شرعی احکام کو واضح طور پر بیان کردیا گیا تھا اب دوبارہ مسئلہ سمجھ لیجیے کہ ایسی سوختہ لاشیں جس میں صرف باقیات رہ جائے اور جسم کا نصف سے زائد دھر یا سر کے ساتھ نصف دھر نا ہو تو اصولی،شرعی اور فقہی حکم یہ ہے کہ ان باقیات کو نا غسل دیا جاتا ہے اور نا ہی ان پہ نماز جنازہ ہوتی ہے،بلکہ پاک کپڑے میں ان باقیات کو لپیٹ کر دفن کردیا جاتا ہے اور صرف دعا اور ایصال ثواب غیرہ کیا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں جو عارف لونی شہید (سانحہ گل پلازہ کا شہید)کی نماز جنازہ ہوئی وہ ایک اچانک صورت حال تھی جس میں افراتفری سے بچنے کے لیے نماز پڑھ لی گئی۔۔۔۔مگر آئندہ کے لیے اس بات کو جان لیجیے کہ شرعی اور فقہی آراء کے مطابق صرف باقیات پہ نماز جنازہ نہیں ہوتی۔۔ اور نماز نا ہونے سے خدانخواستہ یہ نا سمجھا جائے کہ یہ کیا ہوا تو خوب سمجھ لیجیے کہ یہی ان شہداء کا خدائی اعزاز ہے اور میدان جنگ کے شہید کو جس طرح غسل نا دینا ان کا اعزاز ہے اسی طرح ایسی سوختہ میتوں پہ نماز نا پڑھنے کے شرعی حکم کی تعمیل میں دراصل ان کا اعزاز واکرام ہے یہی شریعت کا حکم ہے۔جان لیجیے کہ آئندہ خدانخواستہ ایسی کوئی صورت (جس میں نصف سے کم دھر ہو یا باقیات ملے )پیش آئے تو نماز جنازہ نہیں ہوگی بلکہ تعزیتی اجتماع ،دعا اور ایصال ثواب وغیرہ پہ اکتفا کیا جائے گا۔
عبد الماجد یوسف بھگت